سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، خفیہ اطلاع پر کوئٹہ کے ضلع میں چلتن پہاڑوں کے علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد مارے گئے۔ایک اور کارروائی میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ یہ دہشت گرد ملک میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
اسی دوران خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک اور خفیہ آپریشن کیا گیا، جس میں چار خوارج دہشت گرد، جن میں ان کا سرغنہ امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا، ہلاک کر دیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک دہشت گرد کمانڈر امجد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ حکومت نے اس کے سر کی قیمت پچاس لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔وہ افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان کے اندر کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔سیکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
-
شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کے وفد کا این ای او سی کا دورہ -
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، میر علی میں 3 دہشت گرد ہلاک -
پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت، جامع اور تعمیری کردار کے عزم کا اعادہ -
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس،شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ -
صومالیہ آپریشن میں پانچ افراد کی ہلاکت پر پاکستان کا اظہارِ تعزیت -
پاکستان پانی کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا: عطااللہ تارڑ
