بسم اللہ الرحمن الرحیم

بین الاقوامی

بوسنیا میں ہزاروں مسلم مردوں کے قاتل سرب کمانڈر کے مقدمے کا فیصلہ 8 جون کو سنایا جائے گا

سال 1992 سے سال 1995 تک جاری رہنے والی جنگ بوسنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے

بوسنیا میں ہزاروں مسلم مردوں کے قاتل سرب کمانڈر راٹکو ملاڈچ کے جنگی جرائم کے مقدمے کا فیصلہ منگل 8 جون کو سنایا جائے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سابق بوسنیائی سرب کمانڈر راٹکو ملاڈچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے مقدمے کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کی عالمی جنگی جرائم عدالت نے بوسنیا کا قصائی کہلانے والے راٹکو ملاڈچ کو جنگ بوسنیا کے دوران جنگی جرائم کی منصوبہ بندی کرنے پر 2017 میں عمر قید سنائی گئی تھی۔

راٹکو ملاڈچ نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس کا اب حتمی فیصلہ اگلے ہفتے سنایا جائے گا۔ ان جرائم میں سربرینیکا میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلم مردوں اور لڑکوں کی نسل کشی بھی شامل ہے۔ سال 1992 سے سال 1995 تک جاری رہنے والی جنگ بوسنیا میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے۔ راٹکو ملاڈچ نے سال 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔

اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔ یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔ اقوام متحدہ کے ٹرایبیونل نے راتکو ملادچ کو 11 میں سے 10 الزامات میں مجرم قرار دیا۔ 78 برس کے ملادچ کو جب سزا سنائی گئی تو وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ انھیں ججوں پر چیخنے کی وجہ سے عدالت سے نکال دیا گیا تھا۔

عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر مظالم کا شکار ہونے والے کئی افراد اور ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار بھی موجود تھے۔ عدالت نے ملادچ کے وکیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مقدمے کی کارروائی کو ملتوی کر دیا جائے۔ 1995 میں ہی جنگ ختم ہونے کے بعد ملادچ فرار ہو کر سربیا میں گمنامی کی زندگی گزارنے لگے تھے۔ ان کے خاندان اور سکیورٹی فورسز کے کچھ لوگوں نے انھیں تحفظ فراہم کیا تھا۔ انہیں 2011 میں شمالی سربیا کے ایک دیہی علاقے سے پکڑا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button