بسم اللہ الرحمن الرحیم

قومی

سوشل میڈیا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کیخلاف سازشیں ہونگی،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ

اگر کوئی بیرون ملک سے نامناسب مواد اپ لوڈ کرے تو اس کا ٹرائل کیسے ہو گا؟

لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا کے منفی پہلوں سے متعلق حکومت کو خبردار کر دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان کا کہنا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کنٹرول نہ ہوا تو بیرون ملک بیٹھ کے پاکستان کے خلاف سازش کی جا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو نہ ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کوئی بیرون ملک سے نامناسب مواد اپ لوڈ کرے تو اس کا ٹرائل کیسے ہو گا؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس کا قانون موجود ہے اگر کوئی بیرون ملک بیٹھ کر بھی کچھ اپ لوڈ کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ایک آدمی اگر برطانیہ میں قتل ہو جاتا ہے تو پاکستان میں ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیس بک ،ٹویٹر ،انسٹا گرام اور دیگر سوشل میڈیا کنٹرول نہ ہوا تو بیرون ملک بیٹھ کر بغاوت کے لیے ابھارا جا سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف سازش کی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے سماعت آئندہ ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے وکلا کو تیاری کرنے کی ہدایت کردی۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد نہ ہٹانے کے کیس میں وکلا کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں یہ معاملہ بڑی سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں سائبر کرائم کے قوانین کے مطابق حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔
کسی بھی پاکستانی قانون کے تحت حکومت نے خود کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا تھا کہ اگر گستاخانہ مواد بیرون ملک سے اپ لوڈ ہوتا ہے تو اس پر کیسے کارروائی ہوگی اس نکتے پر آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

Back to top button